میری کہانی میری زبانی- قسط نمبر 51

21 نومبر ماھی گیری کا عالمی دن
طالب ڪڇي
ماھی گیر کون ھیں سمندر۔ دریا۔ اور جھیلوں پہ رھنے والے ماھی گیروں کی زندگی کیسے گزرتی ھے ان کا رہین سہن ان کی ثقافت کیسی ھے ماھی گیروں کی اس پرسرار دنیا سے نہ میڈیا والوں کو پتہ تھا نہ سیول سوسایٹی کی تنظیموں کو خبر ایسے میں ایک ماھی گیروں کی ایک تنظیم ابھرتی ھے جس کا نام پاکستان فشرفوک فورم ھے تنظیم نے ماھی گیروں کو عزت کے ساتھ جینے اور اپنے حقوق کیلئے لڑنے کا ہنر سیکھایا ماھی گیروں کو عالمی سطح پہ متعارف کرایا۔1995 میں کینیڈا میں چار براعظموں کے نمائندوں کی کانفریس میں پہلی بار عالمگیر فورم منقد کرنے کی تجویز زیرغور آی۔ جہاں یہ محسوس کیا گیا کہ کمرشل بنیادوں پر ماھی گیری کے سبب لاکھوں کڑوروں ماھی گیروں کی زندگی اور روزگار کو خطرات ھیں اس فورم میں یہ محسوس کیا گیا کہ سمندر کی حیات کی بقا کیلئے عالمی سطح پر فوری عمل کی ضرورت ھے اس فورم نے عالمی ماھی گیر فورم نئ دہلی میں نومبر 1997 میں منقد کرنے کی منظوری دی ۔ نئ دہلی میں ماھی گیر برادری نے چار دن کے غور و غوض کے بعد ولڈ فورم آف پیپز ماھی گیروں کی عالمی تنظیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا اس فورم میں محمدعلی شاہ آل پاکستان فشرمین فیڈریشن کے صدر کی حصیت سے سعد بلوچ فشرمین کو آپرٹیو سوسایٹی کی لیبر یونین کے نمایندے کی حصیت سے اور ایوب شان نے انجمن سماجی بہبود کے صدر کی حصیت. سے شریک ھوے اس عالمگیر ماھی گیر فورم نے ھر سال 21نومبر ماھی گیری کا عالمی دن منانے کا علان کیا یہی وجہ تھی جو ال پاکستان فشرمین فیڈریشن کو پاکستان فشرفوک فورم میں تبدیل کیا گیا 1998. 5مئ کو مہران ھوٹل کراچی میں عظیم ماھی گیروں اور سیول سوسایٹی کے دوستوں کا بھرپور سیمنار منقد کیا گیا اور اس میں پاکستان فشرفوک فورم کی بنیاد رکھی گیی اسکی تفصیل میں گزشتہ مضمون میں تفصیل سے زکر کر چکا ھوں بار حال میرے خیال میں کراچی میں پہلی بار پوری ساحلی پٹی کے ماھی گیروں کو اس سیمنار میں مدعو کیا گیا تھا اسی پروگرام میں کمیٹیاں بنی گیی اور پایلر کے کرامت صاحب دو سال کے لیے کو ڈینٹر منتخب ھوے اب ماھیگروں کی تنظیم باقیدہ جدید انداز میں کام کی شروعات کردی تھی حالکہ اس سے پہلے بھی تمام دوست ابراھیم حیدری کے جو انجمن سماجی بہبود میں تھے محمدعلی شاہ مجید گبول ایوب شان مجید موٹانی یوسف کڈانی مشتاق بابو محمد جان عباس مل والا گروپ حاجی تاجو حاجی ابو بکر سفیانی گروپ اورمیں طالب کچھی بھی اسی ٹیم کا حصہ تھا خواتین میں زبیدہ بروانی ۔بلقیس بابو۔ بلقیس عثمان زولیخہ رقہ عثمان فاطمعہ شوکت کڈانی فیملی مجید موٹانی فیملی طاھرہ علی شاہ اور کافی خواتین شامل تھی ویسے بھی فشرفوک فورم کے بننے سے پہلے میں محمدعلی شاہ کے ساتھ فش ھاربر پہ سعدبلوچ کوثر صادق بلوچ خداگنج بلوچ مرحوم اور حسین مندرو اور دیگر دوستوں سے میٹنگ کرتے تھے حقیقت میں دیکھا جاے تو پاکستان فشرفوک فورم نے پہلا 21نومبر ماھی گیری کا عالمی دن 1998میں چاڑن جیٹی پہ منایا وھی سے میڈیا نے خوب اس پروگرام کوریج دی یوں لگ رھا تھا کہ آج ماھی گیری کا عالمی دن نھیں بلکہ ابراھیم حیدری میں ماھی گیروں کی عید ھے تمام کشتیوں کو رنگ برنگی جھنڈے اور جھنڈیوں سے سجایا گیا پروگرام اتنے شاندار انداز میں پیش کیا گیا خاص کر گیت اور ٹیبلو اور ڈرامہ جس میں عباس مل والا اسحاق انجیاری اور طاھرہ بابی کی پہلی انٹری ھی عوام میں اس ڈرامہ سے ھوی خوب اداکاری کی ماھی گیروں کے مسلے کو مشتاق بابو نے ڈاریکشن اور کہانی میں ماھی گیروں کے مسلے کو خوبصورت انداز میں تخلیق کیا گیا یہ پروگرام محترم مرحوم حاجی شفیع جاموٹ کی صدارت میں ھوا تھا جس میں ابراھیم حیدری کے ماھی گیر اور خواتین نے بھرپور شرکت کی تھی مبارک ولیج سے رھڑی لٹ بستی بابا بھٹ کیماری لیاری کھڈہ کے ماھی گیروں نے بھرپور حصہ لیا پہلی بار تمام ٹی وی چینل و اخبار کے نمایندے بہت تو سول سوسایٹی کے ساتھی اپنی فیملی کو اپنے ساتھ لاے ایک میلے کا سماں تھا صبح تمام اخباروں نے مین بیچ پہ ماھی گری کے عالمی دن کے حوالے سے خبریں لگای اب دوستوں میں ایک نیا جزبہ پیدا ھوا کہ پاکستان فشرفوک فورم نے ماھی گیروں کو ایک نام دیا ماھی گیروں کی بات اب میڈیا میں آنے لگی اور لوگ جڑنے لگے اس وقت کوی پروجکیٹ نھیں تھا پر جزبہ تھا تمام لانچوں اور کشتیوں والے چندہ دیتے اور میرے خیال میں تین سال تک اسی چندے سے 21 نومبر ماھی گیری کا عالمی دن دھوم دھام سے مناتے رھے اب ھرسال 21نومبر ماھی گیری کا عالمی دن کا ماھی گیروں کو بےچینی سے انتظار رھتا پر ھونا تو یہ چاھیے تھا کہ ماھی گیروں کی جتنی تنظیمیں ھیں وہ سب اپنے اپنے علاقہ میں اس دن کو دھوم دھام سے مناتے پر ایسا نہ ھوا ماھی گیر دیگر تیوار تو مناتے ھیں لانچیں اور کشتیاں بھی کھڑی کر دیتے ھیں پر اپنے روزگار کے لیے ایک دن بھی ھمارے ماھی گیر دینے کو تیار نھیں یہ حقیقت ھے جو سال میں ایک دن ماھی گیری کا عالمی دن جو 21نومبر کو پوری دنیا میں کم و پیش 40ملکوں میں منایا جاتا ھے پر دیگر بہت سے ملکوں میں ماھی گیر چھٹی کرتے ھیں اور اسے بڑی دھوم دھام سے مناتے ھیں کچھ سال فشرمین کو آپر ٹیو سوسایٹی نے 21 نومبر ماھی گیری کا عالمی دن منایا پر وہ فشرفوک کو ڈیمیج کرنے کے لیے اور خوب پیسے بھی خرچ کیے مگر فشرفوک کے شاندار پروگرام کے آگے وہ کامیاب نہ ھو سکے تو اس نے بھی ماھی گیری کا عالمی دن منانا چھوڑ دیا اور اخباروں میں اشتہارے کیی دن سے لگے رھتے تھے پر ھم نہ امید نھیں اس بار نہ سہی پر اگلے سال اگر اس پہ سب ماھی گیر دوستوں سے ملا جاے اور اسے اس بات پہ راضی کیا جاے کہ 21 نومبر ماھی گیری کا عالمی دن تمام ماھی گیروں کا ھے جتنی بھی ما ھیگروں کی تنظمیں ھیں وہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حصیت کی مناسبت سے پروگرام منا سکتے ھیں یہ خوشی کی بات ھے کہ اس بار رھیڑی گوٹھ میں یونس خاصخیلی والوں نے بھی ماھی گیری کا عالمی دن منا نے کا علان کیا ھے یہ بہت اچھی بات ھے 21 نومبر ماھی گیری کا عالمی دن ھم سب ماھی گیروں کا عالمی دن ھے یہ فشرفوک کو کریڈ جاتا ھے کہ وہ ماھی گیری کا عالمی دن منا کر ماھی گیروں کو اک نام دیا ھم بے خبر نھیں بہت سی ایسی قوتیں ھیں وہ ماھی گیروں کے اتحاد سے خوش نھیں ماھی گیر آج بھی بہت سے مساحل میں گھرے ھوے ھیں وہ تمام ماھی گیر جو نسلن اس پیشے سے وابستہ ھیں چاھیے بلوچستان کے ماھی گیر ھوں چاھیے سندھ کے ماھی گیر ھوں ماھی گیر کی تکلیف کو اس سے بہتر اور کوی نھیں سمجھ سکتا کہتے ھیں کہ امید پہ دنیا قایم ھے اور آنے والا نیا سال 2023 حقیقی ماھی گیروں کے اتحاد کا سال ھوگا اس ملک میں ھاری مزدور ماھی گیر اور پسہ ھوے طبقے کوایک ھونا پڑے گا اور اپنے حقوق کے لیے مشترکہ جہدوجہد کرنی پریگی آنے والا نیا سورج ماھی گیروں کو جوڑنے کا سورج ھوگا جس کی بنیاد برابری پر مبنی ھوگی کوی چیز ناممکن نھیں سب ممکن ھے وہ دن دور نھیں جب ھر ماھی گیر ایک آواز ھوکر 21نومبر ماھی گیری کا عالمی دن مناینگے اور اپنے حقوق کے لیے ایک آواز ھوکر جہدو جہد کرینگے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں